ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دہلی تشدد کی گونج، امیت شاہ کے استعفے کا پر زور مطالبہ، وزیر اعظم سے بھی جواب طلب

پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں دہلی تشدد کی گونج، امیت شاہ کے استعفے کا پر زور مطالبہ، وزیر اعظم سے بھی جواب طلب

Tue, 03 Mar 2020 10:26:02    S.O. News Service

نئی دہلی،2؍مارچ (ایس او نیوز؍ایجنسی) دہلی میں گزشتہ دنوں ہوئے زبردست تشدد کی گونج پیر کے روز پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں سنائی دی-پارلیمان کے بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے میں دونوں ایوانوں میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے استعفیٰ کا پر زور مطالبہ کیا گیا- کانگریس سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں نے دہلی میں تشدد پر پارلیمنٹ کمپلیکس میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا-

راجیہ سبھا میں کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے تشدد کے دوران حکومت پر تین دی سوئے رہنے کا الزام عائد کیا- آزاد نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت تین دن تک نہ سوتی تو تشدد نہ ہوتا- علاوہ ازیں پارلیمنٹ کے احاطہ میں کانگریس کے رہنما راہل گاندھی، ادھیر رنجن چودھری سمیت متعدد کانگریس لیڈروں نے دہلی تشدد پر احتجاج کیا اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا- اپوزیشن نے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی دہلی تشدد کے تعلق سے جواب طلب کیا-

لوک سبھا میں ہنگامہ اتنا زبردست ہوا کہ برسراقتدار فریق اور اپوزیشن کے درمیان ہاتھا پائی کی نوبت آگئی اور تین مرتبہ کے ملتوی ہونے کے بعد ایوان کی کارروائی منگل تک کے لئے ملتوی کردی گئی- راجیہ سبھا میں وقفہ صفر کے وقت ہی ہنگامہ ہوا جس کی وجہ سے لنچ کے وقفے تک ایوان کی کارروائی ملتوی کئے جانے کے بعد ڈھائی بجے کے آس پاس پورے دن کے لئے کارروائی ملتوی کردی گئی-

پارلیمنٹ کے احاطہ میں انوکھا احتجاج: قبل ازیں کانگریس ایم پی راہل گاندھی کی قیادت میں مہاتما گاندھی کے مجسمہ کے پاس اکٹھا ہوئے اور ہاتھوں میں تختیاں لے کر نعرہ لگانے لگے،کانگریس ممبر ان ’امیت شاہ استعفیٰ دو‘، وزیر اعظم جواب دو‘-’ملک بچاؤ،جمہوریت بچاؤ‘ جیسے نعرے لگاتے رہے -احتجاج کر رہے ممبروں میں گاندھی کے علاوہ لوک سبھا میں پارٹی کے لیڈرادھیر رنجن چودھری،پارٹی وہپ کے سریش،ششی تھرور،گوورو گوگوئی، سمیت کئی ممبروں نے دھرنادیا اور احتجاج کیا- کانگریس پہلے ہی مسٹر شاہ کے استعفیٰ کی مانگ کر چکی ہے-اس حوالہ سے پارٹی صدر سونیا گاندھی کی قیادت میں ایک وفد نے صدر رام ناتھ کووند سے ملاقات کی تھی اور ان سے مسٹر شاہ کے استعفیٰ کی درخواست کی تھی-

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے تلنگانہ پردیش کانگریس کے صدر و رکن پارلیمنٹ اتم کمارریڈی نے کہا کہ ملک کے قومی دارالحکومت میں اس طرح کا ہندومسلم تشدد کافی افسوسناک ہے -اس تشدد میں تقریباً40/افراد ہلاک ہوگئے -کئی افراد کے مکانات کو نقصان پہنچا-اس تشدد کی وجہ سے دنیا میں ہندوستان کی شبیہ خراب ہوئی ہے -ان تمام کی وجہ بی جے پی حکومت اور اس کے لیڈروں کی نفرت انگیز تقاریر ہیں - دہلی پولیس اس تشدد کو روکنے میں ناکام رہی-انہوں نے کہاکہ اس سارے معاملہ کیلئے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے امیت شاہ اپنے عہدہ سے مستعفی ہوجائیں -

انہوں نے اپوزیشن کی جانب سے سی اے اے، این آر سی اور این پی آر پر عوام میں خدشات پیداکرنے امیت شاہ کی طرف سے کئے گئے دعویٰ پر کہاکہ امیت شاہ جھوٹ بول رہے ہیں - تمام سماجی گروپس، مذاہب، طبقات کے لوگ متحد ہوکر سی اے اے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں - انہوں نے کہاکہ ملک کے دارالحکومت میں اس طرح کے تشدد پر قابو پانے میں مرکزی حکومت مکمل طورپر ناکام ہوگئی ہے جس پر کانگریس پارٹی امیت شاہ سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتی ہے -


Share: